آ کسی روز کسی دکھ پہ اکٹھے روئیں—– شکیل امجد صادق

0
56

آ کسی روز کسی دکھ پہ اکٹھے روئیں (منتخب کالم) —– شکیل امجد صادق

ایک چودھری کے بیٹے کی شادی تھی۔چودھری کا بیٹا اکلوتا تھا۔چودھری صاحب ڈھیروں جائیداد کے مالک تھے۔ اپنی چودھراہٹ کو قائم رکھنے کے لیے چودھری صاحب سیاست کو بھی ’’منہ مار لیتے تھے‘‘۔بیٹے کی شادی پر چودھری صاحب نے ایک انوکھا فیصلہ کیا کہ پورے گاؤں کو اس خوشی میں شامل کیا جائے۔اس کے لیے انہوں نے پورے گاؤں میں اعلان کرا دیا کہ بیٹے کی شادی کی خوشی میں کھانے کی دعوت کے ساتھ ساتھ پنڈ کے ہر گھر کو ایک خوبصورت جانور تحفے میں دیا جائے گا جس گھر میں مرد کا راج ہو گا وہاں ایک گھوڑادیا جائے گا(جی وہی گھوڑے جو زرداری صاحب نے پال رکھے تھے۔ان کی خوبصورتی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے) اور جس گھر میں عورت کا راج ہوگا وہاں ایک مرغی دی جائے گی۔ (جی جی وہی مرغیاں جن کے پالنے کا آئیڈیا وزیر اعظم نے دیا تھا)
گامے مراثی کو جانوروں کی ترسیل کا کام سونپ دیا گیا۔ پہلے ہی گھر میں گاما دونوں میاں بیوی کو سامنے بٹھا کر پوچھتا ہے؛ گھر میں پردھان کون ہے؟ یعنی گھر کے فیصلے کون کرتا ہے۔مرد بولا : میں۔ گامے نے جواب دیا کہ جناب چودھری ہوراں دے سارے گھوڑے کسی نا کسی کے ہو گئے ہیں اب صرف 3 باقی ہیں، ایک کالا، ایک سرخ اور ایک سفید۔ جو تمہیں پسند ہے وہ بتا دو، مرد نے فوراً جواب دیا کہ مجھے سفید پسند ہے۔پاس ہی بیٹھی بیوی نے برا سا منہ بناتے ہوئے اپنے خاوند کو ٹوکا اور اونچی آواز میں بولی۔ نہیں… نہیں… ہم کالا لیں گے، میں نے دیکھا ہوا ہے، اس کے ماتھے پہ سفید پھلی ہے، وہ بڑا سوہنا ہے۔مرد نے کہا کہ چلو کالا ہی دے دو۔گاما آرام سے اٹھا، تھیلے سے ایک مرغی نکالی، عورت کو پکڑائی اور اگلے گھر کو چل دیا۔گاما مراثی بتاتاہے کہ سارے پنڈ وچ ککڑیاں ای دینیاں پئیاں سن ۔
چیئرمین سینٹ کے الیکشن ہو گئے۔صادق سنجرانی 7 ووٹوں کی برتری سے جیت گئے اور سابق وزیر اعظم جناب یوسف رضا گیلانی 7 ووٹوں سے ہار گئے۔مجھے یاد ہے کہ گیلانی صاحب وزیر اعظم تھے تو انہوں نے کم وبیش ساڑھے 3 سال سے کوئی 2 ماہ اوپر حکومت کی تھی۔انہوں نے جو لباس ایک دن زیب تن کیا تھا۔اس کی باری ساڑھے 3سال کے کثیر عرصے میں دوبارہ نہیں آئی۔میں آپ کی یادداشتوں کو گدگداتا ہوا عرض کرتا چلوں کہ ان کے ایک سوٹ کی قیمت اس وقت کے 5 لاکھ سے اوپر ہوتی تھی اور یہ سوٹ فرانس سے آتے تھے۔دوسری بات یہ وہی یوسف رضا گیلانی صاحب ہیں جنہیں جب عدالت نے ان کے عہدے سے برطرف کیا تھا تو مسلم لیگ نواز نے مٹھائی بانٹی تھی۔اب فلک کی ستم ظریفی دیکھیے کہ یہ وہی مسلم لیگ نون تھی جس نے گیلانی کے سنیٹر بننے پر پھر مٹھائی بانٹی۔بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔
گیلانی صاحب کی ہار میں ہوا یوں کہ گیلانی صاحب کے گامے کو غلط فہمی ہوئی اور وہ 6احباب کو مرغیاں دے کر کام تمام کر آئے جب کہ سنجرانی صاحب کا گاما ان کو سفید گھوڑے دے آیا۔۔یوں معاملہ سفید ہاتھیوں سے ہوتا ہوا سفید گھوڑوں تک پہنچ کر 6 فٹ پیچھے رہ گیا۔ساتویں ووٹر کو گیلانی صاحب کا گاما سفید گھوڑا دے کر خواب خرگوش کے مزے لوٹنے لگا۔اتنے میں سنجرانی صاحب کا گاما اپنے گھوڑے سمیت تانگا اور سواریاں بھی دے آیااور اس ساتویں ووٹر نے دونوں کے جوڑوں میں بیٹھ کر قصہ تمام کر دیا۔۔اب گیلانی صاحب سے گزارش ہے کہ وہ گامے مراثی کے ساتھ بیٹھ کر فرحت عباس شاہ کی نظم گنگنائیں۔

آ کسی روز کسی دکھ پہ اکٹھے روئیں

آ کسی روز کسی دکھ پر اکٹھے روئیں

جس طرح مرگ جواں سال پہ دیہاتوں میں

بوڑھیاں روتے ہوئے بین کیا کرتی ہیں

جس طرح ایک سیہ پوش پرندہ کے کہیں گرنے سے

ڈار کے ڈار زمینوں پہ اتر آتے ہیں

چیختے، شور مچاتے ہوئے، کرلاتے ہوئے

اپنے محروم رویوں کی المناکی پر

اپنی تنہائی کے ویرانوں میں چھپ کر رونا

اجنبیت کے گھٹا ٹوپ بیابانوں میں
شہر سے دور کہیں غاروں میں چھپ کر رونا

اک نئے دکھ میں اضافے کے سوا کچھ بھی نہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here