محققین کیلئے بچھایا گیا کانفرنسوں اور جعلی تحقیقی جرائد کا جال — محمد ظہیر یوسف

0
66

یہ یونیورسٹی میں بطور پروفیسر ہمارا پہلا سال تھا۔ بقول یوسفی، ”آدمی ایک بار پروفیسر ہو جائے تو پھر عمر بھر پروفیسر ہی کہلاتا ہے خواہ بعد میں سمجھ داری کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگے۔“

ایک سہانی صبح، اپنے دفتر میں برقی خطوط کا سرسری جائزہ لیتے ہوئے ایک خط کے عنوان نے نگاہوں کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ انگلی کی ایک خفیف سی حرکت سے برقی خط کے مندرجات سامنے آ گئے جو ہمارے دل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کرنے کے لیے کافی تھے۔

یہ سنگاپور سے ایک بین الاقوامی سائنسی کانفرنس میں بطور مرکزی مقرر شرکت کا دعوت نامہ تھا۔ دعوت نامے میں ہمارے ایک مقالے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ کس طرح ہماری ’بے نظیر‘ تحقیق نے منتظمین کو بے طرح متأثر کیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری شرکت کے بغیر ان کی تقریب بے رونق ہو گی۔ کانفرنس کا مرکزی خیال بھی منتظمین کے قلب کی طرح وسیع تھا جس کا سیدھا سا مطلب یہ تھا کہ ہماری تقریر سننے کو سامعین کا ایک جمگٹھا موجود ہو گا۔ خط کے آغاز میں وہ القاب و آداب تھے کہ ہمیں اپنی قمیص کا کالر تنگ محسوس ہونے لگا۔

ہم خوشی سے پھولے نہ سما رہے تھے کہ سائنسی دنیا کو بالآخر ہماری وقعت اور قد کاٹھ کا اندازہ ہو ہی گیا تھا۔ دوپہر کے کھانے پر اپنے احباب سے فخریہ اظہار کیا کہ ایک بین الاقوامی تنظیم نے ہمارے اندر پوشیدہ ایک بے مثل سائنس دان کو آشکار کر لیا ہے۔ معلوم ہوا کہ ”ایک ہم ہی نہیں تنہا، الفت میں تیری رسوا“ کے مصداق ویسا ہی دعوت نامہ تقریباً سبھی وصول کر چکے ہیں۔

یہ واقعہ اس لیے یاد آیا کہ کل فیس بک پر یونیورسٹی اور ہاسٹل کے ایک دوست کی ایک پوسٹ نظر سے گزری۔ ایک برقی خط کا عکس پوسٹ میں لف تھا جس کے مندرجات سے معلوم ہوا کہ یہ دراصل پیرس میں ہونے والی ایک ماحولیاتی کانفرنس میں ایک خطیب کے طور پر شرکت کا دعوت نامہ ہے۔ کانفرنس کی انتظامیہ کے متعلق تحقیق کرنے پر وہ ایک نام نہاد کانفرنس کے معیار پر پوری اترتی ہوئی محسوس ہوئی تو ہم نے دوست کو اپنے خدشات سے آگاہ کیا۔

اکادمیاتی کانفرنسوں کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے بہت ساری بین الاقوامی تنظیموں نے کاروبار کی ایک راہ نکال لی ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں سے بوگس بین الاقوامی کانفرنسوں کے نام پر کچھ تنظیمیں محققین سے پیسے بٹور رہی ہیں۔ آئے روز پروفیسر اور محققین کو ایسے برقی خطوط موصول ہوتے ہیں جن میں انہیں امریکہ، یورپ، سنگاپور کے کسی سیاحی مقام پر منعقدہ تقریب میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔ برقی دعوت نامے کی عنوان اور مندرجات لبھانے والے ہوتے ہیں اور وصول کنندہ ایسی کانفرنس میں اپنی شرکت کو ایک اعزاز سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ آتش شوق کی مزید ہوا دینے کے لیے منتظمین نمایاں سائنس دانوں کے ناموں کا استعمال کرتے ہیں۔ کم عمر اور ناتجربہ کار محققین اور اساتذہ اپنے تعلیمی اور کوائف میں بڑھوتری اور اپنا شعبہ جاتی حلقۂ احباب بڑھانے کی خاطر ایسی تقاریب میں شرکت کی ہامی بھر لیتے ہیں۔

ایسی کانفرنسوں کا سب سے بڑا مسئلہ کوالٹی کنٹرول اور نگرانی کا فقدان ہے۔ تحقیقی مقالوں کی جانچ پڑتال نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اور کم معیاری تحقیق کو رد نہیں کیا جاتا۔ تاہم ان تقاریب میں شرکت، تقریر اور رہائش کے نام پر بھاری رقوم وصول کی جاتی ہیں جو ایسی تنظیموں کی کمائی کا ذریعہ ہیں۔

پچھلے ہفتے پاکستانی میڈیا پر ایک نوجوان طالب علم کی دھوم مچی رہی جسے ایک بین الاقوامی کانفرنس میں اپنا تحقیقی مقالہ پڑھنے پر ”ینگ سائنٹسٹ ایوارڈ“ سے نوازا گیا۔ یہ نوجوان کامسیٹس یونیورسٹی ایبٹ آباد میں بی ایس (بائیو ٹیکنالوجی ) کا طالب علم ہے اور سائنسی کانفرنسوں میں شرکت کے ساتھ ساتھ سائنسی جریدوں میں دو تحقیقی مقالے بھی شائع کروا چکا ہے۔ بظاہر تو یہ خبر ہر پاکستانی کا سربلند کرنے کے لیے کافی ہے تاہم کچھ حقائق نظر انداز ہوئے ہیں۔

جس کانفرنس میں پاکستانی طالب علم کو پر ”ینگ سائنٹسٹ ایوارڈ“ عطا ہوا۔ اس کا انتظام کرنے والی ”کانفرنس سیریز لیمیٹڈ“ ایک بوگس اور فراڈ تنظیم ہے۔ یہ دراصل حیدر آباد انڈیا سے سرگرم ایک تنظیم ”اومکس انٹرنیشنل“ کی ایک ذیلی تنظیم ہے۔ امریکی ریاست نواڈا میں ایک عدالت اومیکس انٹرنیشنل کو کانفرنس اور پبلیکیشنز کی مد میں فریب اور دھوکہ دہی سے کام لینے پر پچاس ملین ڈالر کی فرد جرم عائد کر چکی ہے۔ بیسیوں افراد نے شکایت کی ہے کہ کانفرنس کے نام پر ان سے بھاری رقم وصول کی گئی مگر تقریب منسوخ ہونے پر انہیں رقوم واپس نہیں کی گئیں۔

”کانفرنس سیریز لیمیٹڈ“ نام نہاد کانفرنسوں کے ساتھ ساتھ ایسے سائنسی جرائد بھی شائع کرتی ہے جن میں تحقیقی کام کا تنقیدی جائزہ مفقود ہے۔ ایسے جرائد پیسے لے کر غیر معیاری تحقیقی کام بھی چھاپ لیتے ہیں۔

نوآموز محققین، طالب علموں اور اساتذہ کو ایسی نام نہاد تنظیموں سے باخبر رہنا چاہیے۔ اپنا تحقیقی کام کسی اتالیق کی نگرانی میں کریں تاکہ وہ اکادمیہ میں ہونے والے نام نہاد جرائد اور دوسرے دھوکہ دہی اور فریب کے واقعات سے بچ سکیں۔ نام نہاد اور بوگس جرائد میں چھپی تحقیق اور اس پر ملنے والے ایوارڈ کسی اکادمیاتی وقعت کے حامل نہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here