پشاور(ایس این این)پی پی ایس سی کے بعد پشاور میں بھی این ٹی ایس پمارکیٹ میں بیچے جانے لگے، جنرل این ٹی ایس میں مختلف آسامیوں کیلئے ہونیوالے امتحانات بھی پیسوں کی نذر ہونے لگے ہیں. مختلف سرکاری اداروں کی خالی آسامیوں کیلئے لاکھوں روپے وصول کئے جارہے ہیں جبکہ بعض امیدواروں سے پیسے وصولی کے بعد انہیں مختلف آسامیوں کیلئے دئیے جانیوالے ٹیسٹ کے جوابات بھی پہلے بھیجے جارہے ہیں تاکہ متعلقہ امیدوار اپنے ٹیسٹ پاس کرسکے. ذرائع کے مطابق مختلف سرکاری اداروں کیلئے ٹیسٹ غیر سرکاری ادارے این ٹی ایس کے ذریعے لیاجارہا ہے جس میں ہر امیدوار سے چھ سو روپے سے لیکر ایک ہزار روپے تک فارم وصولی بھی کی جاتی ہیں اور ایک ایک امیدوارتین تین آسامیوں کیلئے پیسے جمع کرواتے ہیں اور ہزاروں افراد سے رقم وصولی کے بعد انہیں فیل کروایا جاتا ہے جبکہ من پسند افراد کو پہلے سے ٹیسٹ کے سوالات بھیجے جاتے ہیں. ذرائع کے مطابق اس وقت محکمہ تعلیم میں خالی ہونیوالی آسامیو ں کیلئے مختلف ریٹس لگے ہوئے ہیں اور پی ٹی سی کی آسامی کیلئے آٹھ لاکھ روپے کی وصولی کی جارہی ہیں اسی طرح سی ٹی اور ایس ایس ٹی کیلئے دس لاکھ سے تیرہ لاکھ روپے پہلے ہی وصول کی جاتی ہیں اور بعد میں متعلقہ افراد کی فہرستیں مخصوص افراد کے ذریعے این ٹی ایس حکام کو بھیجی جاتی ہیں جو انہیں ٹاپ پوزیشن پر لے آتے ہیں. ان میں بیشتر وزراء کی جانب سے دئیے جانیوالے نام ہوتے ہیں.جبکہ غریبوں سے این ٹی ایس ٹیسٹ کے نام پر کروڑوں روپے تو لئے جارہے ہیں مگر ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ اس ادارے کے وسائل کہاں ہیں ، کیونکہ یہ کرایہ پر مختلف جگہوں پر ٹیسٹ منعقد کروا کر کروڑوں روپے وصول کرتی ہیں . جبکہ انکا آڈٹ کرنے والا بھی کوئی نہیں.

رائے دیں

Please enter your comment!
Please enter your name here