پاکستان میں 70 فی صد لوگ دوسروں‌کی سگریٹ نوشی سے متاثر ہوتے ہیں، سپارک

0
391

پاکستان کے 70فیصد لوگ کام کی جگہ پر دوسرے فرد کی سگریٹ نوشی سے یکساں طور پر متاثر ہوتے ہیں
’سوسائٹی فار پروٹیکشن آف رائٹس آف دی چائلڈ‘ SPARC نے کراچی میں میڈیا تبدیلی کا ذریعہ ہے اور میڈیا نے حالیہ دنوں میں معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لئے ایک مضبوط کردار ادا کیا ہے- نوجوانوں میں تمباکو نوشی کی عادت کے متعلق انہوں نے بتایا کہ نشہ کی ابتدا سگریٹ نوشی سے ہوتی ہے- انہوں نے انسداد تمباکو نوشی مہم کے بنیادی کردار کو اجاگر کیا جس سے اسکولوں اور کالجوں میں صحت کے خطرات کم ہونگے-
سوسائٹی کے عہدیدار کاشف مرزا نے بتایا کہ تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھا نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کی عادت کی حوصلہ شکنی کی جاسکے- صحت مند طرز زندگی کے لئے بچوں کو سگریٹ فروخت کرنے کے خلاف قوانین موجود ہیں – اچھی صحت کے لئے تمباکوشی کی عادت کو کم کریں اور صحت پر اٹھنے والے سرکاری اخراجات کو کم کریں – انہوں نے قانون کے نفاذ میں اپنے تعاون کا یقین دلایا- میڈیا آفیسر کاشف مرزا نے تایا تمباکو اور تمباکو نوشی کی ممانعت اور تمباکو نوشی نہ کرنے والے افراد کے تحفظ سے متعلق آرڈیننس 2002 پر حقائق فراہم کئے جس میں ایسے اقدامات شامل ہیں جن میں تمباکو نوشی میں مبتلا افراد کو عوامی مقامات پر تمباکونوشی کی ممانعت، تعلیمی اداروں میں تمباکو کی مصنوعات کی رسائی اور 18 سال سے کم عمر افراد پر سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے- خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے تحت کوئی شکایت درج نہیں کی جاتی-
پاکستان میں کام کی جگہ سگریٹ نوشی کرنے والے فرد کے ساتھ دیگر افراد بھی یکساں طور پر متاثر ہوتے ہیں – نوجوان اور خواتین تمباکو کی صنعت کے بنیادی ہدف ہیں کیونکہ گلوبل یوتھ ٹوبیکو سروے کے مطابق اس وقت 13.3 فیصد لڑکے اور 6.6 فیصد لڑکیاں (جن کی عمریں 13 سے 15 سال ہیں) تمباکو کا استعمال کرتے ہیں – انہوں نے مزید بتایا کہ تقریباً 160,000 افراد پاکستان میں ہر سال تمباکو نوشی سے ملحقہ بیماریوں کی وجہ سے مرجاتے ہیں، جبکہ دوسرے لوگوں کی سگریٹ نوشی کی وجہ سے تقریباً 40,000 افراد ہلاک ہوتے ہیں – انہوں نے مزید کہا کہ SPARC جلد ہی ایک دوسری نشست کا اہتمام کرے گی جس میں اس کے مالی نقصانات کے متعلق آگاہ کیا جائے گا- ”تھرڈ ٹائر (تمباکو پر کم ٹیکسز) کے تعارف کے بعد 2016 سے 2019 تک قومی آمدنی کو 77.85 بلین روپے کا نقصان ہوچکا ہے-“
–ہم سماجی مسائل اور حقائق پر مبنی رپورٹس کے لئے مزید نشستیں میڈیا کے ساتھ منعقد کریں گے اور قانون ساز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو درست کارروائی کے لئے زور ڈالیں گے-آگہی میں کئی ایک صحافیوں اور رپورٹروں نے شرکت کی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here