کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملہ ،5 افراد جاں بحق، تمام دہشتگرد ہلاک

0
191

کراچی(ایس این این) کراچی سٹاک ایکسچینج پر دہشت گردوں کا حملہ. پولیس کے مطابق پاکستان سٹاک ایکسچینج کی عمارت پر حملہ کرنے والے چار حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے .جاں بحق ہونے والوں میں 4 سیکورٹی گارڈ اورسندھ پولیس کا ایک سب انسپکٹر شامل ہیں۔ کراچی پولیس کے ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن اور رینجرز حکام نے تصدیق کی ہے کہ چاروں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کلیئرنس آپریشن کیا جا رہا ہے۔
شہر قائد کے کاروباری مرکز آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع پاکستان سٹاک ایکسچینج کی عمارت پر پیر کی صبح حملہ آوروں نے حملہ کیا، دستی بم پھینکے اور فائرنگ کی۔میٹھادر پولیس سٹیشن کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق دہشت گردوں کی فائرنگ سے سب انسپکٹر شاہد کے علاوہ نجی سکیورٹی کمپنی کے تین اہلکار اور گیٹ پر موجود ایک شہری بھی ہلاک ہوگئے۔
ایڈیشنل آئی جی محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) ڈاکٹر جمیل احمد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حملے میں ملوث ایک دہشت گرد کی شناخت کرلی گئی جس کا تعلق بلوچستان سے تھا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے حوالے سے مزید تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں، حملے میں ممکنہ طور پر انڈیا کی خفیہ ایجنسی ‘را’ ملوث نظر آتی ہے۔پولیس سرجن ڈاکٹر قرار عباسی کے مطابق سول ہسپتال میں سات زخمیوں کے علاوہ سات لاشیں لائی گئی ہیں۔ ان میں سے دو لاشیں سکیورٹی گارڈز، ایک پولیس سب انسپکٹر جبکہ چار لاشیں حملہ آوروں کی ہیں۔
کراچی پولیس کے مطابق حملہ آوروں کے زیراستعمال گاڑی، خودکار اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے گاڑی پر جعلی نمبر پلیٹ لگا رکھی تھی۔ انجن اور چیسز نمبر کے ذریعے گاڑی کی ملکیت کے بارے میں پتا لگایا جائے گا۔کالعدم شدت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ ان کی تنظیم کے مجید بریگیڈ گروپ کے ارکان نے کیا ہے۔
نیوز چینلز اور سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والے ویڈیوز میں سٹاک ایکسچینج کی عمارت کے باہر فائرنگ کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں جبکہ پولیس نفری اور فلاحی اداروں کی گاڑیوں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
پیر کو کاروباری ہفتے کے پہلے دن سٹاک ایکسچینج کی عمارت میں تقریباً دو ہزار کے قریب افراد موجود ہوتے ہیں۔ سٹاک ایکسچینج کی عمارت کے قریب ہی پولیس ہیڈکوارٹرز کی عمارت بھی ہے۔واقعے کے بعد پولیس، رینجرز اور ریسکیو ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور آئی آئی چندریگر روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔کراچی سٹاک ایکسچینج کا ٹوئٹر پر کہنا ہے کہ ’صورتحال ابھی تک نارمل نہیں ہوئی ہے۔ اور سٹاک ایکسچینج کی انتظامیہ سکیورٹی فورسز کے تعاون سے صورت حال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔’
کراچی سٹاک ایکسچینج کے مینجنگ ڈائریکٹر فرخ خان نے بتایا ہے کہ سٹاک ایکسچینج کے احاطے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی دہشت گرد عمارت کے اندر داخل نہیں ہوسکا اور سکیورٹی پر مامور اہلکاروں نے حملہ آوروں کو عمارت سے باہر ہی روکا اور ہلاک کیا۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کراچی سٹاک ایکسچینج میں فائرنگ اور دستی بم حملے کی شدید مذمت کی ہے۔گورنر سندھ عمران اسماعیل کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے کہ سٹاک ایکسچینج کی عمارت کو سکیورٹی فراہم کرنا سندھ پولیس کی ذمہ داری ہے۔
قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے حملے کی مذمت کی اور ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ وہ حملہ ناکام بنانے پر پولیس اور سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے سکیورٹی اہل کاروں کی جرات اور قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ہمارے حوصلوں کو شکست نہیں دے سکتے، حملے کے منصوبہ سازوں کو عبرت کا نشانہ بنایا جانا ضروری ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here