”ذات کے میراثی“ ——- ک. کہانی

0
373

گرما کی تپتی دوپہر میں کالج کی بالائی منزل پر واقع لائبریری میں ہُو کا عالم تھا۔ میں اور شارق آمنے سامنے بیٹھے ایک دوسرے کو مضحکہ خیز نظروں سے دیکھ رہےتھے۔ ہمارے درمیان میز پر چائے کی دو بھاپ اڑاتی پیالیاں بھی موسم کی شدت کا تمسخر اڑا رہی تھیں۔ جھلستے دن میں جب میں نے آیا جی کو چائے بنانے کے لیے کہا تو اس نے مجھے اور شارق کو ایسے دیکھا جیسے ہمارے سروں پر سینگ اُگ آئے ہوں۔
”صاب جی! تسی چا بنان لئی آکھیا اے ناں(صاحب جی! آپ نے چائے بنانےکو کہا ہے ناں؟)“
ہاں! میں نے اسے مختصر سا جواب دیا اور شارق کا ہاتھ تھامے لائبریری میں آ بیٹھا۔آیا حیرت و استعجاب کی ملی جلی علامت چہرے پر سجائے میرے حکم کی تعمیل کرگئی تھی اور چائے کی دوپیالیاں ۔۔۔بھاپ اڑاتی ہمارے درمیان موجود تھیں۔ شارق نے میری طرف دیکھتے ہوئے گنگنانا شروع کر دیا تھا۔
”تیرے رنگ رنگ۔۔۔ تیرے رنگ رنگ۔۔۔“اس کی نظریں میرے چہرے کا طواف کرتے ہوئے میرے گریبان پر آ ٹکی تھیں۔ میں جھینپ گیا۔آج غیر معمولی طور پر میں نے ٹائی نہیں لگائی تھی اور گریبان کا بالائی بٹن بھی غیر معمولی طور پر کھول رکھا تھا۔اُس نے چائے کا اٹھایا اور ہونٹوں سے لگاتے ہوئے بولا:
کاشف صاحب!آپ گاتے کیوں نہیں؟
کیا مطلب؟ میں اُس کے غیر معمولی سوال پر بوکھلا اُٹھا۔
مطلب وطلب کا تو مجھے پتا نہیں۔۔۔۔یہ آپ کی گردن پر دو تِل ہیں ناں۔۔۔ یہ آپ کے سُریلے ہونے کی چغلی کھا رہے ہیں۔ وہ رازدارنہ انداز میں میرے قریب ہوتے ہوئے بولا۔
ہا ہا ہا۔۔۔! میرے منہ سے بے اختیار قہقہہ اُبل پڑا۔ یار شارق! تمھاری باتیں بھی تمھاری طرح عجیب ہیں۔
کاشف صاحب! میری بات کو مذاق نہ سمجھیں۔ میں اپنے تجربے کی روشنی میں کہ رہا ہوں ۔آپ بہت سریلے ہیں ۔آپ کی گردن کے تل اس کی گواہی دے رہے ہیں۔ وہ بولے جا رہا تھا اور میری ہنسی تھمنے میں نہ آ رہی تھی۔ میری چائے کے کپ سے بھاپ اڑنا بند ہو چکی تھی۔ وہ اگر صرف یہ کہتا کہ آپ گا سکتے ہیں تو اچھنبے کی بات نہ ہوتی۔”سریلے“ کے خطاب نے مجھے قہقہے لگانے پر مجبور کر دیا تھا۔ میں نے ہنستے ہوئے چائے کا کپ اٹھا لیا۔
میں زمانہ طالب علمی میں نعت خوانی کے مقابلوں میں ضرور حصہ لیتا رہا تھا۔ دوستوں کے ساتھ کہیں جانا ہوتا تو پنکج ادھاس یا متالی کی غزلیں گنگنا لیتا تھا۔۔۔مگر ”سریلا“ ہر گز نہیں تھا۔۔۔ میں نے سوچتے ہوئے جلدی سے چائے کاکپ خالی کیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
شارق سے میری پہلی ملاقات آج صبح ہی ہوئی تھی۔ وہ ہمارے ادارے کے مین کیمپس میں ”میوزک ٹیچر“ تھا۔ ہمارے کیمپس میں سالانہ تقریب تقسیم انعامات کی تقریب منعقد ہونے والی تھی اس لیے اسے بچوں کو ملی نغمے اور ترانے وغیرہ کی ریہرسل کے لیے بھیجا گیا تھا۔ پہلی ملاقات میں ہی وہ مجھے اچھا لگا۔ مجھے ادارے کی جانب سے اسٹیج اور دیگر انتظامات کا نگران مقرر کیا گیا تھا اس لیے اُس نے آتے ہی مجھے رپورٹ کی تھی۔ بچوں سے تعارف کے دوران ہی وہ اپنی باتونی طبیعت کی وجہ سے مجھ سے بے تکلف ہو چکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مجھ سا مردم بیزار شخص اس کے ساتھ نہ صرف چائے پی رہا تھا بلکہ غیرمعمولی انداز میں قہقہے بھی لگا رہا تھا۔مجھے فنون لطیفہ سے منسلک لوگوں کے ساتھ ہمیشہ دل چسپی رہی ہے۔وہ موسیقی کے فن سے وابستہ تھا یہی بات مجھے اس کے قریب لے گئی تھی۔
شارق نے بتایا کہ وہ عیسائی ہے اور ایک عرصے سے بچوں کو میوزک سکھا رہا ہے۔ میں نے بھی شارق کو بتایا کہ ایک دور میں مجھے بھی طبلہ سیکھنے ، بانسری بجانے اور گانے سے دل چسپی رہی ہے مگر اباجان کے خوف سے اپنے شوق کی تکمیل نہیں کر پایا۔ اب تو غم روزگار سے یہ دل چسپی بھی“ چھومنتر” ہو چکی ہے۔کبھی نعت خواں ضرور رہا مگر ”سریلا“ ہونے کا اعزاز آج پہلی بار تم نے بخشا ہے ۔۔ سرکاری ریڈیو کے ایف ایم پر آر جے ضرور رہا ہوں، سریلا ہر گز نہیں ہوں ۔ میں نے اس کی بات سرے سے رد کر دی۔
اچھا ہوا سر جی! آپ نے یہ سب سیکھا نہیں۔۔۔آپ پڑھا رہے ہیں ۔۔۔آپ کے لیے یہی بہتر ہے۔۔۔ شاید میرے انکار پر وہ اپنی رائے بدلنے کے لیے پر تول رہا تھا۔
کیوں بھئی؟؟؟ ابھی تو مجھے سریلا بنانے پر تلے ہوئے تھے اور اب یہ سب۔۔۔
شاہ جی! پہلے بھی دل کی بات کی تھی اور اب بھی دل کی بات بتا رہا ہوں۔۔۔وہ بولا۔۔۔ایک اداسی اس کے لہجے میں بھر چکی تھی۔
سر! دنیا ہم گانے بجانے کو ”میراثی“ کہتی ہے۔ کوئی شوق سے ہی کیوں سیکھے۔ لوگ اسے ”میراثی“ ہی کہتے ہیں۔
کاشف صاحب! آپ ، شاعر ہیں ۔۔۔ دنیا آپ کے سامنے ”واہ واہ“ کرے گی مگر سب آپ کو ”خیالی پلاؤ“ پکانے والا سمجھتی ہے۔
آپ ادیب ہیں تو دنیا آپ کو ”چھوڑو“ کہتی ہے۔آپ کھرے صحافی ہیں تو ہوتے رہیں آپ زمانے کی نظر میں ”جھوٹ کی پنڈ“ ہیں۔ہم گانے بجانے والے ”میراثی“ ہیں سر جی۔۔۔ اس کے لہجے میں رقت کی آمیزش گہری ہوتی جا رہی تھی۔میں اس بے فکرے محسوس ہونے والے موسیقار کا ایک اور روپ دیکھ کر حیران ہو رہا تھا۔
آج ہی دیکھ لیں جب میں نے کالج میں آکر چپراسی سے کہا کہ وائس پرنسپل صاحب کو بتاؤ ساہیوال سے میوزک ٹیچر ملنا چاہتا ہے۔ تو بتاؤں اس کا جواب کیا تھا؟ اس نے استفہامیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے بات جاری رکھی۔
چپراسی نے کہا: ”اچھا تے تسی او واجے والے جنہاں دا صاب نے دسیا سی “(اچھا تو آپ باجے والے ہیں جن کا صاحب نے بتایا تھا)۔اس کیمپس میں میں پہلے بھی آچکا ہوں۔ صفائی والی نے بھی مجھے دیکھ کر ایسا ہی جملہ کہا تھا۔ اس کے اندر کا درد باہرنکل کر اس کے چہرے پر چھا چکا تھا۔
کاشف صاحب! محفل موسیقی ہو نائٹ فنکشن ہو یا تعلیمی ادارہ۔۔۔ ہم ”میراثی“ ہی رہتے ہیں جناب!۔۔۔وہ بولتا چلا جارہا تھا۔ اُس کی آواز رندھ کر پاتال میں جاتی ہوئی محسوس ہوری تھی۔ میرے تسلی اور ہمدردی کے بول اچانک سمٹ کر ذہن سے مٹ چکے تھے۔
اچانک جھاڑو کی آواز سے ہم دونوں چونکے۔ بالائی منزل کا سویپر اعظم جھاڑو سے ہلکی گرد اڑاتا ہماری طرف چلا آرہا تھا۔
اعظم! میں نے اس آواز دی۔
جی سر۔۔۔وہ جھاڑو چھوڑ کر دوڑا ہوا آیا۔
یار! سٹاف روم کے فریج سے پانی کی ٹھنڈی بوتل لے کر آؤ جلدی سے۔۔۔۔۔
مم۔۔مم۔۔۔میں سر جی ۔۔۔وہ ہکلانے لگا۔
ہا ں بھی تم۔۔۔ جاؤ جلدی سے ۔۔۔۔میرے لہجےمیں سختی آ گئی تھی۔
مگر سر جی وہ۔۔۔ سب مجھے کہتے ہیں فریج کو ہاتھ نہ لگایا کرو۔۔۔۔اس نے ڈرتے ڈرتے کہا۔
اعظم بھی عیسائی تھا۔۔۔ شارق میری طرف بغور دیکھ رہا تھا۔ میں چپ چاپ اس سوچ میں گم تھا کہ ہمارا مذہب تو ہمیں چھوت چھات کی اجازت نہیں دیتا۔ ذات پات کو اعزاز نہیں سمجھتا پھر کیوں ایک کی نظر میں دوسرا حقیر ۔۔ پڑھانے والا ۔۔۔جوتے سینے والا۔۔۔برتن بنانے والا۔۔۔ گانے والا۔۔ سب معاشرے کی نظر میں”میراثی“ ہیں ۔میری گردن کے دو تل میرے میراثی ہونے کی گوہی دے رہے ہیں اور من حیث القوم ہمارے دل بھی اس حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں کہ ہم سب ”ذات کے میراثی“ ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here