ہمت نہ تھی کہ دستِ ستم گار کھینچتا ———- شکیل امجد صادق

0
91

تاریخ ایسا سچ اگلتی ہے کہ آنے والی نسلیں اس سچ کو پڑھ کر منہ چھپاتی پھرتیں ہیں۔۔پھر یوں ہوتا ہے کہ کئی نسلیں اور اس کے حکمران اس تاریخ سے سبق سیکھتے ہیں۔اور کئی حکمران اس تاریخ کا ’’منہ کالا‘‘کرکیایک اور بھیانک ناک تاریخ رقم کرتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ ترکستان کا بادشاہ لمبی عمر کا خواہان تھا۔ وہ قطعاً مرنا نہیں چاہتا تھا۔ اس مختلف طبیب اکٹھے کیے۔جو جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے۔۔جس سے انکار ممکن نہیں۔جس سے راہ فرار کا کوئی در وا نہیں ہوتا۔آپس میں سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔۔ایک متفقہ فیصلے کے بعد اس کے طبیبوں نے بتایا کہ ہندوستان کی سرزمین پر چند ایسی جڑی بوٹیاں پیدا ہوتی ہیں جن میں آب حیات کی تاچیر ہے۔ آپ اگر وہ جڑی بوٹیاں منگوا لیں تو ہم آپ کو ایک ایسی دوا بنا دیں گے جس کے کھانے کے بعد آپ جب تک چاہیں گے زندہ رہیں گے؟ ترکستان کے بادشاہ نے دس لوگوں کا ایک وفد تیار کیا اور یہ وفد ہندوستان کے راجہ کے پاس بھجوا دیا۔ اس وفد میں ترکستان کے ماہر طبیب بھی شامل تھے اور بادشاہ کے انتہائی قریبی مشیران میں بھی شامل تھے۔ (جیسے ہمارے وزیراعظم کے مشیران میں فواد چوہدری ، شہباز گل، زلفی بخاری، فردوس عاشق اعوان، فیاض الحسن چوہان اور مراد سعید شامل ہیں) وفد نے ہندوتان کے راجہ کو ترکستان کے بادشاہ کا پیغام پہنچا دیا۔ راجہ نے پیغام پڑھا اور زور دار قہقہہ لگایا۔ راجہ چند سپاہی بلوائے اور وفد کو گرفتار کروا دیا۔ وفد کی گرفتاری کے بعد راجہ انہیں سلطنت کے ایک بلند و بالا پہاڑ کے قریب لے گیا۔ راجہ نے پہاڑ کے نیچے خیمہ لگوا یا اور ان دس لوگوں کو اس خیمے میں بند کروا دیا۔ اس کے بعد حکم جاری کیا جب تک یہ پہاڑ نہیں گرتا تم لوگ اس جگہ سے کہیں نہیں جا سکتے۔ تم میں سے جس شخص نے یہاں سے نکلنے کی کوشش کی اس کی گردن کاٹ دی جائے گی۔
راجہ نے اپنا فوجی دستہ وہاں چھوڑا اور واپس شہر آ گیا۔ ترکستانی وفد کو اپنی موت صاف نظر آنے لگی وہ پہاڑ کو اپنی مصیبت سمجھنے لگے۔ مشکل کی اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں تھا۔ وہ زمین پر سر بسجود ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑانے لگے۔ وہ صرف کھانا کھانے ’رفع حاجت یا پھر وضو کرنے کے لیے سجدے سے اٹھتے تھے اور پھر اللہ سے مدد مانگنے کے لیے سجدے میں گر جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کو ان پر رحم آ گیا چنانچہ ایک دن زلزلہ آیا ’زمین دائیں سے بائیں ہوئی‘ پہاڑ جڑوں سے ہلا اور چٹانیں اور پتھر زمین پر گرنے لگے۔ ان دس لوگوں اور سپاہیوں نے بھاگ کر جان بچائی۔ راجہ کے سپاہی ان دس لوگوں کو لے کر دربار میں حاضر ہو گئے۔ انہوں نے راجہ کو سارا ماجرا سنایا۔ راجہ بات سن کر پھر زور دار قہقہہ لگایا اور اس کے بعد ان دس ایلچیوں سے کہا۔ آپ لوگ اپنے بادشاہ کے پاس جاؤ۔ اسے یہ واقعہ سناؤ اور اس کے بعد اسے میرا پیغام دو ’’اسے کہو‘‘ دس لوگوں کی بددعا جس طرح پہاڑ کو ریزہ ریزہ کر سکتی ہے بالکل اسی طرح دس بیس لاکھ عوام کی بددعا بادشاہ کی اور اقتدار دونوں کو خاک میں ملا سکتی ہیں۔تم اگر لمبی زندگی اور اقتدار چاہتے ہو تو لوگوں کی بددعاؤں سے بچو۔تمہیں کسی دوا ، کسی بوٹی کی ضرورت نہیں رہے گی۔
یہی حال آج بائیس کروڑ عوام کا ہے۔یہ غریب عوام اشیائے خورونوش اور روز روز کی بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہے۔اس عوام کی امید کی کرنیں افق کے پار کہیں ڈوب گئی ہیں۔ان کی آس کا دامن دریدہ ہو چکا ہے۔۔۔ان کی خوشیوں کی جھولی میں سو سو چھید ہو چکے ہیں۔ان کے ساتھ ’’اپریل فول‘‘جیسا دن منایا گیا ہے۔اس عوام کو قید بالجبر،قید با مشقت اور تبدیلی کے نعرے لگانے ،عمران خان کو سرخرو کرنے پر اپنے ہی پیروکاروں سے مہنگائی، لاقانونیت، جھوٹ، بے روز گاری،فراڈ کے کوڑے لگائے جا رہے ہیں۔مگر یہ وہ عوام ہے جو جس سیاست دان کو جتنے چاء اور مان سے اپنے کندھوں پر اٹھاتی ہے۔ ڈھول بجاتی ہے۔بھنگڑے ڈالتی ہے اور جتواتی ہے۔یہ عوام اتنی ہی بے رخی اور بے حسی سے ’’دھڑام‘‘سے زمین پر پٹخ دیتی ہے۔خان صاحب ابھی بھی وقت ہے اگر آپ لمبی زندگی اور لمبا اقتدار چاہتے ہیں تو اس عوام پر رحم کریں۔ان کے مسائل پر توجہ دیں۔انہیں مہنگائی کی دلدل سے نکالیں۔انہیں روز گار دیں۔ان کے چہروں کی پڑمردگی دور کریں۔ان کے دلوں کا سکون واپس کریں۔اگر آپ ایسا نہ کر سکے تو تاریخ آپ کو معاف نہیں کرے گی اور اس عوام کی بدعائیں اپنی جگہ اور یہ آپ کے لیے جھولیاں الگ پھیلائیں گے۔خان صاحب ابھی وقت ہے اسے سنبھال لیجیے۔آپ کو سے دعا کروانے اور جھڑی بوٹیاں منگوانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔بقول اسد رحمان::

ہمت نہ تھی کہ دستِ ستم گار کھینچتا
سو چل پڑا تھا خود کو میں ناچار کھینچتا
کہنا پڑا کہ مجھ کو یہ منصب نہیں قبول
اب کیا کسی کے سر سے میں دستار کھینچتا
کچھ ادھ ادھورے دائرے سے ہم رکاب ہیں
میں چل رہا ہوں بیچ میں پرکار کھینچتا
اک مرحلے پہ رک گیا تھا ہاتھ جنگ میں
اب خود پہ کس طرح سے میں تلوار کھینچتا
حق تو یہ تھا کہ جس کو بنایا ہے جانشیں
گھوڑے سے باندھ کر اسے سردار کھینچتا
خانہ بدوش ہوں سو اک آواز پر تری
میں چل پڑوں گا ساتھ میں گھر بار کھینچتا
اب سانس رک رہی ہے تو حیرت نہیں اسد
آخر میں کتنی دیر یہ آزار کھینچتا

شکیل امجد صادق کا تعلق اوکاڑہ کی زرخیز ادبی سرزمین سے ہے۔ آپ معروف ماہر تعلیم ہونے کے ساتھ ساتھ اردو ادب کی تحقیق سے وابستہ ہیں۔ میدان صحافت میں عرصہ دراز سے طبع آزمائی کر رہے ہیں اور سنجیدہ صحافتی حلقوں میں بہت مقبول ہیں۔ آپ صاحب کتاب شاعر ہیں اور پنجابی زبان میں آپ کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here