زندگی کی حقیقت ——– شکیل امجد صادق

0
72

کسی نے سچ کہا ہے کہ کتابیں بہترین ساتھی ہیں۔میں کہتا ہوں کتابیں تنہاٸی کا بہترین علاج ہیں۔۔کہانی انسان کو وہ سبق دیتی ہے۔۔وہ سوچ اور فکر دیتی ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی کے تجربات سے نہیں سیکھ سکتا۔۔قارٸین ایسی ہی ایک کہانی میں آپ کی نذر کرتا ہوں۔۔جو آپ کو زندگی کا مقصد جاننے میں ایک خوبصورت کردار ادا کرے گی۔آپ سوچنے پر مجبور ہو جاٸیں گے کہ زندگی کیا ہے؟اور زندگی نسان کو کون کون سے رنگ دکھاتی ہے ۔ ”بادشاہ کا موڈ اچھا تھا!
وہ نوجوان وزیر کی طرف مڑا اور مسکرا کر پوچھا
”تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے“

وزیر شرما گیا‘ اس نے منہ نیچے کر لیا‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا
”تم گھبراﺅ مت‘ بس اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش بتاﺅ“۔

وزیر گھٹنوں پر جھکا اور عاجزی سے بولا
”حضور آپ دنیا کی خوبصورت ترین سلطنت کے مالک ہیں‘ میں جب بھی یہ سلطنت دیکھتا ہوں تو میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے اگر اس کا دسواں حصہ میرا ہوتا تو میں دنیا کا خوش نصیب ترین شخص ہوتا“۔
وزیر خاموش ہو گیا‘

بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا
”میں اگر تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟“

وزیر نے گھبرا کر اوپر دیکھا اور عاجزی سے بولا
”بادشاہ سلامت یہ کیسے ممکن ہے‘ میں اتنا خوش قسمت کیسے ہو سکتا ہوں“۔

بادشاہ نے فوراً احکامات لکھنے کا حکم دیا‘ بادشاہ نے پہلے حکم کے ذریعے اپنی آدھی سلطنت نوجوان وزیر کے حوالے کرنے کا فرمان جاری کر دیا‘
دوسرے حکم میں بادشاہ نے وزیر کا سر قلم کرنے کا آرڈر دے دیا‘

وزیر دونوں احکامات پر حیران رہ گیا‘ بادشاہ نے احکامات پر مہر لگائی اور وزیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا
”تمہارے پاس تیس دن ہیں‘ تم نے ان 30 دنوں میں صرف تین سوالوں کے جواب تلاش کرنا ہیں‘ تم کامیاب ہو گئے تو میرا دوسرا حکم منسوخ ہو جائے گا اور تمہیں آدھی سلطنت مل جائے گی اور اگر تم ناکام ہو گئے تو پہلا حکم خارج سمجھا جائے گا اور دوسرے حکم کے مطابق تمہارا سر اتار دیا جائے گا“۔

وزیر کی حیرت پریشانی میں بدل گئی‘ بادشاہ نے اس کے بعد فرمایا
”میرے تین سوال لکھ لو“

وزیر نے لکھنا شروع کر دیا‘ بادشاہ نے کہا
”انسان کی زندگی کی سب سے بڑی سچائی کیا ہے؟“

وہ رکا اور بولا
”دوسرا سوال‘ انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکا کیا ہے“

وہ رکا اور پھر بولا
”تیسرا سوال‘ انسان کی زندگی کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے“

بادشاہ نے اس کے بعد نقارے پر چوٹ لگوائی اور بآواز بلند فرمایا
”تمہارا وقت شروع ہوتا ہے اب“۔

وزیر نے دونوں پروانے اٹھائے اور دربار سے دوڑ لگا دی‘اس نے اس شام ملک بھر کے دانشور‘ ادیب‘ مفکر اور ذہین لوگ جمع کئے اور سوال ان کے سامنے رکھ دیئے‘

ملک بھر کے دانشور ساری رات بحث کرتے رہے لیکن وزیر نے دوسرے دن دانشور بڑھا دیئے لیکن نتیجہ وہی نکلا‘ وہ آنے والے دنوں میں لوگ بڑھاتا رہا مگر اسے کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا یہاں تک کہ وہ مایوس ہو کر دارالحکومت سے باہر نکل گیا‘
وہ سوال اٹھا کر پورے ملک میں پھرا مگر اسے کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا‘ وہ مارا مارا پھرتا رہا‘ شہر شہر‘ گاﺅں گاﺅں کی خاک چھانتا رہا‘ شاہی لباس پھٹ گیا‘ پگڑی ڈھیلی ہو کر گردن میں لٹک گئی‘ جوتے پھٹ گئے اور پاﺅں میں چھالے پڑ گئے‘

یہاں تک کہ شرط کا آخری دن آ گیا‘ اگلے دن اس نے دربار میں پیش ہونا تھا‘
وزیر کو یقین تھا یہ اس کی زندگی کا آخری دن ہے‘ کل اس کی گردن کاٹ دی جائے گی اور جسم شہر کے مرکزی پُل پر لٹکا دیا جائے گا‘
وہ مایوسی کے عالم میں دارالحکومت کی کچی آبادی میں پہنچ گیا‘ آبادی کے سرے پر ایک فقیر کی جھونپڑی تھی‘ وہ گرتا پڑتا اس کٹیا تک پہنچ گیا‘ فقیر سوکھی روٹی پانی میں ڈبو کر کھا رہا تھا‘ ساتھ ہی دودھ کا پیالہ پڑا تھا اور فقیر کا کتا شڑاپ شڑاپ کی آوازوں کے ساتھ دودھ پی رہا تھا‘
فقیر نے وزیر کی حالت دیکھی‘ قہقہہ لگایا اور بولا ”جناب عالی! آپ صحیح جگہ پہنچے ہیں‘ آپ کے تینوں سوالوں کے جواب میرے پاس ہیں“

وزیر نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا
”آپ نے کیسے اندازہ لگا لیا‘ میں کون ہوں اور میرا مسئلہ کیا ہے“
فقیر نے سوکھی روٹی کے ٹکڑے چھابے میں رکھے‘ مسکرایا‘ اپنا بوریا اٹھایا اور وزیر سے کہا
”یہ دیکھئے‘ آپ کو بات سمجھ آ جائے گی“

وزیر نے جھک کر دیکھا‘ بوریئے کے نیچے شاہی خلعت بچھی تھی‘ یہ وہ لباس تھا جو بادشاہ اپنے قریب ترین وزراءکو عنایت کرتا تھا‘ فقیر نے کہا
”جناب عالی میں بھی اس سلطنت کا وزیر ہوتا تھا‘ میں نے بھی ایک بار آپ کی طرح بادشاہ سے شرط لگانے کی غلطی کر لی تھی‘نتیجہ آپ خود دیکھ لیجئے“
فقیر نے اس کے بعد سوکھی روٹی کا ٹکڑا اٹھایا اور دوبارہ پانی میں ڈبو کر کھانے لگا‘ وزیر نے دکھی دل سے پوچھا
”کیا آپ بھی جواب تلاش نہیں کر سکے تھے“

فقیر نے قہقہہ لگایا اور جواب دیا
”میرا کیس آپ سے مختلف تھا‘ میں نے جواب ڈھونڈ لئے تھے‘ میں نے بادشاہ کو جواب بتائے‘ آدھی سلطنت کا پروانہ پھاڑا‘ بادشاہ کو سلام کیا اور اس کٹیا میں آ کر بیٹھ گیا‘ میں اور میرا کتا دونوں مطمئن زندگی گزار رہے ہیں“
وزیر کی حیرت بڑھ گئی لیکن یہ سابق وزیر کی حماقت کے تجزیئے کا وقت نہیں تھا‘
جواب معلوم کرنے کی گھڑی تھی چنانچہ وزیر اینکر پرسن بننے کی بجائے فریادی بن گیا اور اس نے فقیر سے پوچھا
”کیا آپ مجھے سوالوں کے جواب دے سکتے ہیں“۔

فقیر نے ہاں میں گردن ہلا کر جواب دیا
”میں پہلے دو سوالوں کا جواب مفت دوں گا لیکن تیسرے جواب کےلئے تمہیں قیمت ادا کرنا ہو گی“۔

وزیر کے پاس شرط ماننے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا‘ اس نے فوراً ہاں میں گردن ہلا دی‘فقیر بولا

”دنیا کی سب سے بڑی سچائی موت ہے‘ انسان کوئی بھی ہو‘ کچھ بھی ہو‘ وہ اس سچائی سے نہیں بچ سکتا“۔

وہ رکا اور بولا
”انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکا زندگی ہے‘ ہم میں سے ہر شخص زندگی کو دائمی سمجھ کر اس کے دھوکے میں آ جاتا ہے“۔

فقیر کے دونوں جواب ناقابل تردید تھے‘ وزیر سرشار ہو گیا‘ اس نے اب تیسرے جواب کےلئے فقیر سے شرط پوچھی‘ فقیر نے قہقہہ لگایا‘ کتے کے سامنے سے دودھ کا پیالہ اٹھایا‘ وزیر کے ہاتھ میں دیا اور کہا

”میں آپ کو تیسرے سوال کا جواب اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک آپ یہ دودھ نہیں پیتے۔“
وزیر کے ماتھے پر پسینہ آ گیا ‘اس نے نفرت سے پیالہ زمین پر رکھ دیا‘ وہ کسی قیمت پر کتے کا جوٹھا دودھ نہیں پینا چاہتا تھا‘ فقیر نے کندھے اچکائے اور کہا
” تمہارے پاس اب دو راستے ہیں‘ تم انکار کر دو اور شاہی جلاد کل تمہارا سر اتار دے یا پھر تم یہ آدھ پاﺅ دودھ پی جاﺅ اور تمہاری جان بھی بچ جائے اور تم آدھی سلطنت کے مالک بھی بن جاﺅ‘ فیصلہ بہرحال تم نے کرنا ہے“۔

وزیر مخمصے میں پھنس گیا‘ ایک طرف زندگی اور آدھی سلطنت تھی اور دوسری طرف کتے کا جوٹھا دودھ تھا‘ وہ سوچتا رہا‘
سوچتا رہا یہاں تک کہ جان اور مال جیت گیا اور سیلف ریسپیکٹ ہار گئی‘ وزیر نے پیالہ اٹھایا اور ایک ہی سانس میں دودھ پی گیا‘

فقیر نے قہقہہ لگایا اور بولا ”میرے بچے‘
انسان کی سب سے بڑی کمزوری غرض ہوتی ہے‘۔

یہ اسے کتے کا جوٹھا دودھ تک پینے پر مجبور کر دیتی ہے اور یہ وہ سچ ہے جس نے مجھے سلطنت کا پروانہ پھاڑ کر اس کٹیا میں بیٹھنے پر مجبور کر دیا تھا‘ میں جان گیا تھا‘ میں جوں جوں زندگی کے دھوکے میں آﺅں گا‘میں موت کی سچائی کو فراموش کرتا جاﺅں گا اور میں موت کو جتنا فراموش کرتا رہوں گا‘ میں اتنا ہی غرض کی دلدل میں دھنستا جاﺅں گا اور مجھے روز اس دلدل میں سانس لینے کےلئے غرض کا غلیظ دودھ پینا پڑے گا لہٰذا میرا مشورہ ہے‘ زندگی کی ان تینوں حقیقتوں کو جان لو‘ تمہاری زندگی اچھی گزرے گی“ وزیر خجالت‘ شرمندگی اور خودترسی کا تحفہ لے کر فقیر کی کٹیا سے نکلا اور محل کی طرف چل پڑا‘ وہ جوں جوں محل کے قریب پہنچ رہا تھا اس کے احساس شرمندگی میں اضافہ ہو رہا تھا‘ اس کے اندر ذلت کا احساس بڑھ رہا تھا‘ وہ اس احساس کے ساتھ محل کے دروازے پر پہنچا‘۔
اس کے سینے میں خوفناک ٹیس اٹھی‘ وہ گھوڑے سے گرا‘ لمبی ہچکی لی اور اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی“۔قارٸین میری ایک بات یاد رکھیے۔۔موجودہ سیاسی صورت حال بھی اس کہانی کے ساتھ مشہابت رکھتی ہے۔۔کسی وزیر ،مشیر کو غریب عوام کے دکھ،درد اور تکلیف کا احساس نہیں۔۔یہ صرف اور صرف اپنی بادشاہت کے چکر میں ہیں۔۔سب کے سب اپنے اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

۔لیکن انہیں کسی دن کسی ٹھنڈی جگہ پر بیٹھ کر زندگی کے ان بنیادی سوالوں پر ضرور غور کرناچاہیے‘انہیں یہ سوچنا چاہیے یہ لوگ کہیں زندگی کے دھوکے میں آ کر غرض کے پیچھے تو نہیں بھاگ رہے‘ یہ لوگ کہیں موت کو فراموش تو نہیں کر بیٹھے‘۔

یہ کہیں اس کہانی کے وزیر تو نہیں بن گئے ‘ مجھے یقین ہے ان لوگوں نے جس دن یہ سوچ لیا اس دن یہ غرض کے ان غلیظ پیالوں سے بالاتر ہو جائیں گے اور حقیقی زندگی کا مقصد سمجھ جاٸیں گے۔اس دن ان کی زندگی میں سکون اور امن وارد ہو جاٸے۔۔اگر ایسا ممکن نہ ہو سکا تو یہ لوگ لالچ کی اس جنگ میں اپنی زندگیاں ہار کر آگ کی بھینٹ چڑھ جائیں گے۔۔۔

 

شکیل امجد صادق کا تعلق اوکاڑہ کی زرخیز ادبی سرزمین سے ہے۔ آپ معروف ماہر تعلیم ہونے کے ساتھ ساتھ اردو ادب کی تحقیق سے وابستہ ہیں۔ میدان صحافت میں عرصہ دراز سے طبع آزمائی کر رہے ہیں اور سنجیدہ صحافتی حلقوں میں بہت مقبول ہیں۔ آپ صاحب کتاب شاعر ہیں اور پنجابی زبان میں آپ کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here