خواتین کی اخلاقی تربیت سیرت سیدہ عائشہ صدیقہ کی روشنی میں —- از محمد قاسم وقار سیالوی

0
45

اے غیب بتانے والے نبی اپنی بیبیوں سے فرما دے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں مال دوں اور اچھی طرح چھوڑ دوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو بے شک اللہ نے تمہاری نیکی والیوں کے لیے بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ (سورۃ احزاب: ترجمہ کنز الایمان)
کفایت شعار،خاوند کی وفادار، گھر داری میں زیرک، معاملہ فہم، رشتوں کی قدراور فیصلہ سازی جیسی صفات کی حامل خاتون ہی اپنے گھر کو جنت بنانے میں کامیاب ہوپاتی ہے۔ پر سکون گھر ہی جنت نظیر ہوتا ہے اور اگر بیوی ان صفات سے نابلد ہو تو گھر سے صرف سکون ہی رخصت نہیں ہوتا بلکہ خاوند کی کمائی سے برکت بھی اُٹھ جاتی ہے۔ تاجدارِ انبیاء صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ہستی بلا شبہ بنی نوع انسانوں کیلئے مشعل راہ ہے اسی طرح آپ کے نکاح میں آنے والی امت کی عظیم خواتین کی زندگی بھی ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کیلئے عظیم خزانہ ہے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ سلام اللہ علیہا کو یہ شرف حاصل ہے کہ جب سے آنکھ کھولی اپنے والد کو دین اسلام پر پایا اور مشکل حالات میں والد کی اسلام کیلئے جدوجہد کو دیکھا،پھر نبی پاک ﷺ کے نکاح میں آئیں تو رسول اللہ ﷺ کی نجی زندگی کا بغور مشاہدہ کرکے احادیث مبارکہ کی صورت میں امت کیلئے عظیم ذخیرہ فراہم کیا۔
خاوند کے ساتھ والہانہ محبت
میاں بیوی گھریلو زندگی کے دو ہم راز ہوتے ہیں، باہم محبت ہی مکان کو خوشیوں کا گھر بناتی ہے۔ بیوی کی دلجوئی کرنا رسول اللہ ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اور اپنے خاوند کی خواہش اورحقوق و فرائض کی بجا آوری بیوی کا اولین فریضہ۔ ایک دوسرے کے ساتھ نرم رویہ رکھنا، خوش طبعی کرنا اور ضرورتوں کو پورا کرنا دونوں کا کام ہے۔سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اپنے شوہر نامدار، تاجدارِ انبیاء سے محبت کا ثبوت اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے رسول اللہ ﷺ نے وصال ظاہری جب فرمایا تو آپ کا سر انور ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ سلام اللہ علیہا کی گود میں تھا۔
حالات کا جرأت کے ساتھ مقابلہ کرنا
صاحب ِ خانہ خاتون کیلئے لازمی ہے کہ وہ بلند ہمت و حوصلہ والی ہو۔ اگر ماں ہی چھوٹی چھوٹی بات پر دل چھوڑ دے تو گھر کو سنبھالا کس نے دینا ہے۔ حضرت ام المؤمنین کی زندگی میں بھی ایک مشکل ترین وقت آیا جب آپ کا ہار گم ہوا، وہ سخت لمحے تھے کہ آپ کے والد سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور آپ کی والدہ نے بھی فرما دیا کہ ہم کو کچھ سمجھ نہیں آتی کہ اس مشکل سے کیسے نکلیں گے؟ لیکن آپ نے ہمت نہیں ہاری،اللہ کے حضور گریہ و زاری فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی برات کیلئے آیات نازل فرما دیں۔ کچھ غزوات میں آپ شامل رہیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی اور پانی پلاتی رہیں جو کہ نہایت بلند ہمت کام ہے۔
گھر کے کام کاج پر توجہ دینا
آپ کا یہ فرمان ”کہ تکلہ(سوت کاتنے والا آلہ) عورت کے ہاتھ میں مجاہد فی سبیل اللہ کے ہاتھ میں نیزے سے بہتر ہے“۔(مجمع الزوائد)۔ ایک مضبوط و مستحکم گھر عورت کے ہی مرہون منت ہوتا ہے اگر عورت اپنے گھر کی بجائے دیگر مقامات و مصروفیات پر توجہ دے گی تو اس کا اپنا گھر بکھرتا چلا جائے گا۔ ماں کی گود کو پہلی درسگاہ قرار دیا گیا ہے جن بچوں کو بچپن میں ماں کی تربیت نصیب نہیں ہوتی وہ ساری زندگی اس کمی کو پورا نہیں کر پاتے۔
گھر میں تعلیم و تربیت
بلا شبہ آپ کو اسلام کی فقیہہ عورت کا لقب ملا ہے، جلیل القدر صحابہ کرام و خلفاء راشدین بھی آپ سے اہم مسائل پر رائے طلب کرتے۔ آپ سے کثیر احادیث مبارکہ مروی ہیں۔ آپ کے گھر میں وحی نازل ہوتی تھی تو ہم بلا شبہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر صاحب ِ خانہ عورت خاوند کی تابع فرمان ہو تو اس گھر میں فرشتے آتے ہیں، حضرت ام المؤمنین کا گھر وہ خوش نصیب جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ کے بعد سب سے عظیم المرتبت ہستی نبی آخر الزماں ﷺ آرام فرما رہے ہیں۔
اللہ کی رضا پر راضی رہنا
سیدہ عائشہ صدیقہ سلام اللہ علیہا کا فرمان ہے ”جس نے اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والا کام کیا اس کی تعریف کرنے والے لوگ بھی اس کی بُرائی کرنے والے بن جائیں گے“۔ ایک اور موقع پر آپ سے پوچھا گیا کہ آدمی غلطی پر کب ہوتا ہے فرمایا”جب وہ سمجھے کہ میں اچھا کر رہا ہوں“۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here